حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے حالیہ بیانات میں قدیم ایران اور یونان کی جنگوں کا حوالہ دے کر ایران کو مغربی تہذیب کے مخالف کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ تاریخ کے منتخب واقعات کو نمایاں کرنے کا مقصد امریکہ کی موجودہ پالیسیوں اور ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کو جائز ثابت کرنا ہے۔
مارکو روبیو نے یونان کے دارالحکومت ایتھنز میں تاریخی عمارت ایکروپولیس کے قریب تقریر کرتے ہوئے امریکہ کو یونانی تہذیب کا وارث اور محافظ قرار دیا۔ انہوں نے قدیم ایران اور یونان کی جنگوں کے دوران ایتھنز کو آگ لگائے جانے کا ذکر کیا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، اس طرح ماضی کے واقعات کو موجودہ حالات سے جوڑ کر ایران اور مغربی تہذیب کے درمیان دشمنی کا تصور پیش کیا جا رہا ہے۔
تاریخ کے واقعات کا انتخابی استعمال
سیاسی صحافی اور محقق حمید رضا میررکنی کے مطابق، امریکہ ایران کے خلاف اپنی فوجی کارروائیوں کو مغربی تہذیب کے دفاع کی جنگ کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایرانیوں کو جنگ پسند اور تباہی پھیلانے والی قوم دکھانے سے ایران پر حملے کو ایک آزاد ملک کے خلاف جارحیت کے بجائے تہذیبی دفاع کا نام دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ روبیو نے تقریباً ڈھائی ہزار سال پہلے ایتھنز کو آگ لگائے جانے کا ذکر کیا، لیکن اس واقعے کے پس منظر کو نظر انداز کیا۔ میررکنی کے مطابق، 498 قبل مسیح میں یونانیوں نے سارد شہر پر حملہ کرکے وہاں کے ایک معبد کو آگ لگائی تھی، جس کے بعد ایرانیوں نے ایتھنز پر حملہ کیا۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر یونانی عمارتوں کو آگ لگانے کے واقعے کو ایرانیوں کی جنگ پسندی کی دلیل بنایا جاتا ہے تو سکندر مقدونی کی فوج کے ہاتھوں تخت جمشید کو آگ لگانے اور ایران کو لوٹنے کے واقعے کی کیا توجیہ کی جائے گی؟
میررکنی نے مزید کہا کہ ہخامنشی دور ایران کی تاریخ کا ایک اہم زمانہ تھا، جس میں مختلف قوموں کی روایات کے احترام، رواداری اور انسانی حقوق سے متعلق تصورات کو نمایاں مقام حاصل ہوا۔ ان کے مطابق، امریکہ کی موجودہ حکمت عملی تہذیبوں کے درمیان مکالمے کے بجائے ایران کے ساتھ تہذیبی محاذ آرائی کو فروغ دینے کی کوشش ہے۔
ایران کے خلاف محاذ آرائی کو تہذیبی رنگ دینے کی کوشش
تہران یونیورسٹی کی فیکلٹی رکن ڈاکٹر حکیمہ سقائی بیریا نے بھی اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ روبیو کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان معاملہ اب صرف جوہری مسئلے یا سیاسی اختلافات تک محدود نہیں رہا، بلکہ اسے تہذیبی مقابلے کی شکل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنگ کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی تہذیب کو تباہ کرنے کی دھمکیوں اور جنگ کے مقاصد میں بار بار تبدیلی سے بھی اس صورت حال کو سمجھا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق، ایران پر تسلط پسندی اور دوسرے علاقوں پر قبضے کے الزامات اس ملک کی حالیہ چند صدیوں کی تاریخ سے مطابقت نہیں رکھتے، جبکہ مغربی طاقتوں، خصوصاً امریکہ، کی تاریخ میں دوسرے ملکوں کے وسائل اور املاک پر قبضے کی متعدد مثالیں موجود ہیں۔
ڈاکٹر حکیمہ سقائی بیریا نے مزید لکھا کہ ایران کے خلاف خوف پھیلانا امریکی حکومتوں کی تشہیری پالیسی کا ایک مستقل حصہ رہا ہے۔ ان کے مطابق، بعض بڑے ذرائع ابلاغ بھی، جو صہیونیت کی حمایت کرنے والے حلقوں سے وابستہ ہیں، ایران کی منفی تصویر پیش کرنے میں کردار ادا کرتے رہے ہیں۔










آپ کا تبصرہ